ناسخ کی مِیری (حصہ اوّل)
اردو کے معروف کلاسیکی شاعر امام بخش ناسخ کا قصہ
ناسخ کے ساتھ اردو والوں نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ پہلوانی کرتا ، ‘یا غفور’ کے اعداد کے برابر ڈنٹر پیلتا ، لَے پالک ہونے کا طعنہ سنتا ناسخ! اوّل سوانح ایسی ٹیڑھی، دوّم اردو کے پروفیسروں کی لسانی اخلاقیات۔ اصلاحِ زبان کا وہ ڈنکا بجایا کہ شاعر جاتا رہا ، اصلاح رہ گئی۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی زندگی کے آخری دور میں ناسخ کا بہت ذکر کیا ہے۔
شاید اس لیے کہ انھوں نے جوانی کے مضامین میں ناسخ کی شاعری کو بال کی کھال اکھاڑنے والی ، بے رس قافیہ پیمائی سے تعبیر کیا ہے۔
اپنے آخری انٹرویو میں فاروقی صاحب نے ناسخ کو غالب کا حقیقی پیش رَو ( یا ہم رَو ) بھی کہا ہے۔ لیکن ناسخ "سوار اور دوسرے افسانے” میں جگہ نہ پا سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ ناسخ انیسویں صدی میں غالب کے بعد دوسرا اہم اور غیر معمولی شاعر ہے۔ ایسا کہنے سے مومن و ذوق کی توہین نہیں ہوتی۔ مومن کا دائرہ ، چاہے جتنا ہی بلند کیوں نہ ہو ، نازک خیالی ( کہیں کہیں تعقید ) سے آگے نہیں بڑھتا۔ اگرچہ نازک خیالی بھی کم وقیع چیز نہیں لیکن تا بہ کَے؟ غالب کے مصرعے نے بھی مومن کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا : طبیعت اس کی معنی آفرینی تھی! رہا ذوق کا معاملہ ، تو ان کا خاصا قلعہ معلیٰ کی روزمرہ زبان ہے۔ ظاہر ہے ، اس دائرے میں ان کا کون حریف ہو گا۔ غالب تک کو اپنے خط میں لکھتے ہی بنی کہ اب شعر دلّی کی روزمرہ زبان ہی میں کہنا چاہیے۔
ناسخ کی حکایت ذوق اور مومن ( اور کسی حد تک آتش) سے مختلف ہے۔ اول تو درباری و ازدواجی زندگی کا خرخشہ نہیں، دوسرا وہ مضمون اور اخلاقیات کی قید میں بند نہ تھے۔ اخلاقیات کی نام نہاد بندش تو خیر ہمارے کسی کلاسیکی شاعر میں نہ تھی۔ لیکن ظاہر ہے ، مومن کا خاص مذہبی پس منظر ، کُھل کھیلنے میں مانع تھا۔ یہی عالم ذوق کا بھی تھا۔ لال قلعے کے شہزادوں میں لاکھ شعری سنجیدگی کا فقدان ہو ، لیکن استادِ شاہ ہونے کے اپنے تقاضے تھے۔ اس کے علی الرغم ناسخ کے ہاں موضوعات کا تنوع قاموسی ہے، اس پر خوش طبعی مستزاد۔ ( افسوس کہ ان کے شعر کو خشک و بے پوست کہا گیا).
فاروقی صاحب کا یہ کہنا بجا ہے، ناسخ کے کلام میں خوش طبعی انیسویں صدی کے کسی بھی شاعر سے زیادہ ہے۔ ہمارے ذہین دوست عرفان خستہ کو ناسخ کی ایک غزل بہت پسند ہے۔ چھوٹی بحر کی یہ غزل اپنی ردیف اور مضامین کی وجہ سے خوش طبعی یا Exuberance کی عمدہ مثال ہے۔
کس قدر صاف ہے تمہارا پیٹ
صاف آئینہ سا ہے سارا پیٹ
دیکھ کر ایک بار پیٹ اس کا
کہہ رہا ہوں دکھا دوبارا پیٹ
جی میں ہے رکھ کے سر میں سو جاؤں
تکیہ مخمل کا ہے تمہارا پیٹ
طویل غزل ہے ، میں تین شعر لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ ان شعروں کے کئی معنی ہیں۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے ، ان میں سے اکثر شعر عُمقِ معنی کی بجائے شگفتگیٔ مطالب کا باعث بن رہے ہیں۔ شعر کے ذریعے خوش طبعی یا شگفتگی پیدا کرنا ، اردو فارسی کے کلاسیکی شعر کا باقاعدہ وظیفہ ہے۔ اس نکتے کی تفہیم کے بغیر کلاسیکی سرمائے کا ایک بڑا حصہ بے کار معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اخلاقی اور غیر اخلاقی کی بحث نہیں۔ آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) نے پتے کی بات لکھی ہے : ادب اخلاقی اور غیر اخلاقی نہیں ، اچھا یا برا ہوتا ہے۔ اچھا یا برا بھی اپنی نہاد میں نہیں بل کہ پیش کش میں۔ اس نقطۂ نظر سے بہ ظاہر مخرب اخلاق نظر آنے والا مصرع بالکل متضاد کیفیت کا نمائندہ ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ سنجیدہ نظر آنے والا شعر صرف ہنسنے کی بات ہو سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ قاری سڑی نہ ہو۔ پابلو نیرودا ( Pablo Neruda ) سے ایک بار ، جب اس کی نظم A Dog Has Died کے مفہوم کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا ، یہ نظم ہنسنے میں اداس ہونے اور اداسی میں ہنسنے کے سوا کسی مصرف کی نہیں۔ ظاہر ہے ، ہم مشرقی لوگوں کے لیے ایسی باتوں کو ہضم کرنا مشکل ہے۔ بہر صورت شعر کا ایک کار آمد تفاعل ہنسنا ہنسانا بھی ہے اور یہ وقت گزاری کی بجائے انسانی ترفّع (Sublimation) کی ایک مفید صورت ہے۔
ناسخ کے شعر کا ایک اور اہم پہلو ، متاخرین کے موضوعات کا استقبال ہے۔ فارسی و اردو کے اساتذہ کے موضوع پر شعر کہنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ناسخ نے میر کے کئی شعروں پر شعر کہے اور دیگر ہم عصر شعراء مثلاً مصحفی اور آتش سے زیادہ کامیاب رہے۔
چاہے بوڑھے میر صاحب نے مَسیں بھیگتے ناسخ کو اپنا شاگرد نہ بنایا ہو لیکن ناسخ ان کے کلام سے خوب خوب متمتع ہوئے۔ ( اگرچہ اس قصے کی تفصیلات محلِ نظر ہیں)
میر کا معروف شعر ہے :
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
میر کا شعر اپنی جگہ ، غم کی شکیبائی (Acceptance) سے پیدا ہونے والی جمالیات کا کامل نمونہ ہے۔ رعایتوں اور مناسبتوں کا جال بچھا ہے۔ انھیں چھوڑ کر محض منظر ہی کو لیا جائے تو وہ بھی النادر و کالمعدوم کا درجہ رکھتا ہے۔ ہاتھ یا ہتھیلی پر داغ اس کثرت سے موجود ہیں کہ اُن کی بُریدہ کیفیت اور نیم وا سرخی سے جگہ جگہ آنکھیں بنی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ نرگس کے پھولوں کی کیا حاجت ، جب کہ خود ہاتھ ہی نرگس کا دستہ ہو گیا ہے۔ یہ شعر ایسا مصّوَر ہے کہ خود بہ خود تصویر کِھنچتی معلوم ہوتی ہے۔ اطالوی مصّوِر فرانسیسکو ڈیل کوسا یاد آتا ہے ، جس نے Saint Lucy کی دو معلق آنکھوں کو زندہ و جاوید کر دیا تھا۔ کوسا اگر میر کے شعر سے آگاہ ہوتا تو خدا جانے کیسی خلاقی کو کام میں لاتا!
ناسخ نے میر کے خیال کو بدل بدل کر پیش کیا ہے۔ دیوان دوم کی ایک غزل کا مطلع دیکھیے :
بجائے داغ ملے دیدۂ غزال مجھے
کمال جوششِ وحشت ہے اب کے سال مجھے
میر کے شعر میں داغ کے کھلنے کی وجہ کو مخفی رکھا گیا ہے ، البتہ منظر پوری صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ناسخ کے شعر میں داغ بننے کی وجہ ( جوش ) بیان کر دی گئی ہے۔ البتہ منظر میں کنایے سے کام لیا گیا ہے۔ عاشق یا شاعر کو دیدۂ غزال ( خوب صورتی کا منبع و سر چشمہ) ہی مطلوب ہوتے ہیں۔ دوسرے مصرعے کا اضطراب بتا رہا ہے کہ عاشق ہجر کی کیفیت میں ہے۔ یہ کیفیت ، ظاہر ہے کہ دل یا بدن میں داغ پیدا کرنے کا باعث ہے۔ لیکن داغِ وحشت خود اپنی شکل و ہیئت میں دیدۂ غزال بن جائیں گے ، انتہائی پر لطف اور با کمال بات ہے۔ یعنی درد ہی میں درد کا مداوا ہے۔ دیدۂ غزال کہاں بنے ، یہ سوال بھی اہم ہے۔ میر نے ہاتھ کا ذکر کر کے مقام کی تصریح کر دی ہے۔ ناسخ کے ہاں مقام عنوان عنقا ہے۔
بہر صورت اگر داغ کے عمومی مقامات : دل یا سینہ یا جسم کو تصور کیا جائے تو بھی صورت حال کم دل چسپ نہیں بنتی۔ ذرا کلپنا کو کام میں لائیں اور دل و جسم پر غزال کی آنکھیں بنی دیکھیے۔ میر کے شعر میں جمالیات کا حسن ہے اور ناسخ کے شعر میں وحشت کا منظر۔ وحشت اور غزال میں مناسبت ہے۔ جوشش اور داغ میں بھی رعایت موجود ہے۔ داغ جِلد کے پھٹنے سے وجود میں آتا ہے، جوشیدن کے ایک معنی بھی پھٹنے کے ہیں۔ بندش کی چستی کمال ہے۔ مشکل مضمون میں بھی عجزِ کلام نام کو نہیں۔
دوسرے مصرعے میں "اب کے سال” سے وقت اور وقوعے کی توقیت (Timeline) بھی سامنے آتی ہے۔ یعنی ایسا ہونا کچھ نیا تو نہیں ، لیکن اب کے سال حد ہو گئی۔ غالباً انور عظیم کا شعر ہے :
پچھلا برس عظیم بڑا ہی طویل تھا
میں بوڑھا ہو گیا ہوں فقط ایک سال میں
غرض عمدہ شعر کہا ہے۔ ایک اور جگہ اس موضوع کو ذرا مختلف پیرائے میں بیان کیا ہے :
ہزاروں داغ مرے آفتاب سے چمکے
نہ فرق ظلمت روز فراق میں آیا
دیدۂ غزال پر سیکڑوں نے شعر کہے لیکن صائب کا انداز کسی کو نصیب نہ ہوا۔
ہر چند صد بیابان وحشی تر از غزالیم
ما را بہ گوشۂ چشم تسخیر می تواں کرد
ناسخ کی مِیری رواروی کی بات نہیں۔ میر سے استفادہ یافتہ شعر ان کے کلام میں بہ آسانی مل جاتے ہیں۔ دیوان دوم ہی کی ایک چھوٹی بحر کی غزل کا شعر دیکھیے :
کیا ہی چاکِ قبا ہے خوش اسلوب
میری وحشت کی دست کاری ہے
شعر صاف ہے۔ لیکن چاکِ قبا کو خوش اسلوب کہنا جس پختگی کا تقاضا کرتا ہے ، عام شاعر اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
کمال بات لطافت و کثافت کو آمیز کرنا ہے۔ خوش اسلوب و دست کاری اور چاک قبا و وحشت ، کیسے اضدادی جوڑے (Binary Opposites) اکھٹے کر دیے ہیں۔ قبا کو چاک کرنا وحشت و اضطرار کا نتیجہ ہے۔ اس کیفیت میں بھی دستکاری کا مظاہرہ کمالِ ہنر ہے۔ پابلو پکاسو کا قصہ معروف ہے (میرا خیال ہے یہ قصہ درست نہیں ) کہ اس کے پالتو کتے کی نم دیدہ دُم نے شہکار تصویر پر قوس بنا ڈالی تھی ، جو بعد ازاں مقبول خلائق بھی ہوئی۔ کیا چاکِ قبا کی دستکاری ایسی ہی اتفاقی (Accidental) ہے یا ہاتھ کی صفائی کا نتیجہ؟ دوسرے مصرعے میں لفظ "میری” پر اصرار وفورِ اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ دستکاری کو چاکِ قبا کا مشبہ بہٖ کرنا بے مثال ہے، اگر میر کا یہ شعر سامنے نہ ہو:
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراش
اب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں
اس شعر کی تفصیل میں کیا بیان کروں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے اسے شعر شور انگیز کا حصہ بنایا ہے۔ شرح وہاں ملاحظہ ہو سکتی ہے۔ چہرے پر ناخنوں کی خراشوں کی دستکاری کیسا ہول ناک منظر ہے۔ ایسے مرقّعے میر کے ہاں بہت ہیں۔ انگریزی میں Gothic Poetry کی اصطلاح موجود ہے ، اردو میں ایسی شاعری کا باقاعدہ کوئی نام نہیں ، لیکن اگر ہوتا میر اس فرقے کے بھی بانی ٹھہرتے۔ گوٹفریڈ بن کی نظم The Young Hebbel کا مصرعے یاد آتے ہیں :
My youth is like a scab:
under it there is a wound
that every day leaks blood.
میر کا عالم یہ ہے کہ وہ اپنے پہلو میں شعر کی تمام دِشاوں کی وِید دابے ہیں۔ ہر نیا ، بدیع اور نادر مضمون مکمل کاری گری کے ساتھ ان کی شعری گرنتھ میں موجود ہے۔ کہاں تک سرگشتہ ہوا جائے، سچ ہے :
ان صنائع کا ان بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
قصہ مختصر ناسخ کے کلام کی بار بار قرات کی شدید ضرورت ہے ، اور نہیں تو مرزا نوشہ کی بات ہی کا اعتبار کر لیا جائے !
